Wednesday, 15 January 2014

Toheed توحید




توحید کی اقسام
توحید کی تین اقسام ہیں۔
(
۱)توحید ربوبیّت:۔
ا س بات کا اقرار کرنا کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا‘پالنے والا‘روزی دینے والا‘معاملات کی تدبیر کرنے والا‘ عزّت وذلت سے دوچار کرنے والااور تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اس توحید کو کفّار بھی مانتے تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ۔
((ولئن سألتھم من خلقھم لیقولنّ اللّٰہ))[الزخرف:
۸۷]
’’ اگرآپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے؟تو وہ ضرور جواب دیں گے !’’کہ اللہ نے پیدا کیا ہے‘‘
(
۲)توحید الوہیّت:۔
یہ عقیدہ رکھنا کہ تمام قسم کی مشروع عبادات کے لائق صرف اور صرف اللہ رب العزّت ہی کی ذات ہے۔جیسے۔دعا کرنا‘مددمانگنا‘طواف کرنا ‘رکوع وسجدہ کرنا‘ جانور ذبح کرنا‘نذرماننا‘ ڈرنا‘ امیدرکھنا‘نمازپڑھنا‘روزہ رکھنا‘زکوٰۃ دینا‘حج کرنا‘توکل کرنا‘ جھکناوغیرہ وغیرہ۔جو شخص ان مشروع عبادات کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف پھیر دے ‘وہ آدمی مشرک اور کافر ہے‘اورنجات سے محروم ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ۔
((ومن یدع مع اللہ الٰہاً اٰخر لا برھان لہ بہفانّما حسابہ عند ربّہ انّہ لا یفلح الکٰفرون )) [المومنون:
۷۱۱]
’’جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں‘پس اس کا حساب تو اللہ کے اوپر ہے۔بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔‘‘
کفّار نے اسی توحید الوہیّت کا انکار کیا تھا۔جس کی وجہ سے حضرت نوح
ؑ کے زمانے سے لیکر محمد تک کفّار اور انبیاء کرام کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں۔اسی توحیدکا ہم ہر نماز میں اقرار کرتے ہیں ۔ (ایّاک نعبد وایّاک نستعین)اور اللہ ربّ العزّت نے اسی توحید کو اپنانے کا حکم دیا ہے کہ۔
(انّنی انا اللّٰہ لا الٰہ الاانا فاعبدنی)[طہ:
۱۴]
بیشک میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں۔پس تو میری عبادت کر۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دلاتا ہے تجھ کو نجات۔
(
۳) توحید اسماء وصفات:۔
اللہ تعالیٰ کے تمام ناموں اور تمام صفات پر حقیقی معنیٰ میں بغیرتمثیل ‘بغیر تشبیہ ‘بغیر تکییف ‘بغیر تعطیل اور بغیر تحریف کئے ایمان لانا ‘ جونام اللہ نے خود ہمیں بتائے ہیں یا نبی
نے بتائے ہیں۔جیسے استواء ‘ نزول ‘ ید وغیرہ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ۔
((لیس کمثلہ شیئی وھو السمیع البصیر )) [الشوریٰ:
۱۱]
’’اس جیسی کوئی چیز نہیں ‘وہ سننے اور دیکھنے والا ہے‘‘یعنی کائنات میں اللہ جیسی کوئی چیز نہیں‘نہ ذات میں نہ صفات میں۔پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔واحد اور بے نیازہے۔

No comments: